بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || انگریزی زبان کے چینل گڈ مارننگ بریٹن نے کے نامہ نگار نے فرانس میں وسیع احتجاجات اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے تلخ واقعات کے بارے میں ایک رپورٹ میں کہا: یہ واقعی وہی مشکل صورتحال ہے جس کا سامنا پولیس اور سیاستدان کر رہے ہیں۔ آپ کو تشدد کو قابو کرنا ہے، لیکن ساتھ ہی اس معاملے کو ان مظاہرین کے ساتھ متوازن برتاؤ بھی رکھنا ہے جو بنیادی طور پر بچے ہیں۔ تقریباً 5 ہزار میں سے تقریباً 4 ہزار گرفتار افراد کی عمریں 18 سال سے کم ہے۔
تفصیلی رپورٹ:
یہیں ایک قریب شہر 'لارنس' میں ایک 15 سالہ لڑکے نے پولیس کا سٹن گرینیڈ (stun grenade) اٹھایا جو دھماکے سے پھٹ گیا اور لڑکے کے دونوں ہاتھ کٹ گئے! اور یہ وہی دو راہہ ہے جس کا پولیس اور سیاستدانوں کو سامنا ہے۔
آپ کو تشدد کو قابو کرنا چاہئے لیکن اسی اثناء میں ان احتجاجیوں سے بھی اپنا رویہ معتدل رکھنا چاہئے جو بنیادی طور پر 'بچے' ہیں۔
گرفتار ہونے والے 5000 افراد میں 4000 افراد کی عمریں 18 سے کم ہیں۔ میں نے یہاں لیو میں کئی طلباء سے بات چیت کی۔
یہ احتجاج اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں حد سے زیادہ بھیڑ اور بجٹ کی کمی کی وجہ سے، ایک ہفتہ قبل، شروع ہؤا۔
آپ ذرا نقشے پر نظر ڈالیں، کیونکہ یہ احتجاجات 'لیل جایی' تک پہنچے ہیں جہاں میں آج صبح حاضر ہوں۔
نیز نانت، بوردو، تولوز اور مارسی میں احتجاجات ہوئے ہیں۔
بہت سے دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی جلوسوں کا منصوبہ ہے۔ یہ صورت حال صدر میکرون کے لئے ایک بحران بن گئی ہے۔
ان کو نہ صرف فرانس کے تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرنے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا بلکہ فی الحال فوری وہ تصاویر ہیں جو پوری دنیا میں پھیلائی جا رہی ہیں؛ فرانسیسی پولیس کی تصاویر جب وہ فرانسیسی اسکولوں کی طلباء کی طرف آنسو گیس پھینکتے دکھائی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ